صفحۂ اول / تازہ ترین / ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کررہے ہیں لیکن اپنے زمیندار کو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں: وفاقی وزیر
ghulam sarwar khan

ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کررہے ہیں لیکن اپنے زمیندار کو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں: وفاقی وزیر

آن لائن: وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا ہے کہ ہم کہاں کہاں سے گندم امپورٹ کررہے ہیں لیکن اپنے زمیندار کو حکومت کچھ دینے کو تیار نہیں، کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں۔

سپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی زیر صدارت زرعی مصنوعات پر خصوصی کمیٹی کا اجلاس ہوا ، جس میں وفاقی وزیر غلام سرور خان نے کہا کہ میں کابینہ میں بیٹھ کر بے بس ہوں ۔

ا ڑھائی تین سال میں زرعی سیکٹرکیلئے ہم کچھ نہیں کر سکے،  زرعی سیکٹر کو ہم ریلیف نہیں دے سکے ، حکومت نے انڈسٹری، سروسز سب کو ریلیف دیا مگر زراعت کو نہ دیا ، 52 بلین کے پیکیج کا اعلان ہوا تھا کم از کم اس کو یقینی بنایا جائے اور وہ ریلیز ہو۔ غیر زرعی طبقے کی آواز میں زیادہ اثر ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں کابینہ میں ہوں مگر دکھ ہوتا ہے وہاں بھی ہماری بات سنی نہیں جاتی،  کابینہ میں بزنس مین کی بات سنی جاتی ہے۔

  کابینہ میں بھی میں نے پوچھا تھا کہ گندم کہاں کہاں سے امپورٹ کر رہے ہیں، امپورٹڈ گندم 2400 روپے من پڑ رہی ہے اپنے زمیندار کو 1800 دے رہے ہیں۔

 اتنا ظلم اپنے زمیندار کے ساتھ نہ کیا جائے،  سندھ نے جو ریٹ 2 ہزار رکھا وہ حقیقت پر مبنی ہے۔

اجلاس کے دوران رکن کمیٹی محمد فاروق اعظم ملک نے شکوہ کیا کہ محکمہ زراعت کے افسران کو کہیں کام کریں نہ کریں کم سے کم ہمارا فون اٹھا لیا کریں۔

محکمہ زراعت کے دفتر جائیں تو ایسا سلوک کیا جاتا ہے جیسے اسمبلی کل ختم ہونے والی ہے۔