صفحۂ اول / تازہ ترین / حیران کن طور پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کچھ سوالات پوچھے: جسٹس فائز عیسیٰ

حیران کن طور پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کچھ سوالات پوچھے: جسٹس فائز عیسیٰ

آن لائن، ویب ڈیسک: جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے سپریم کورٹ کی جانب سے پوچھے گئے تین سوالات کا 10صفحات پر مشتمل جواب عدالت میں جمع کروا دیا۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ کی جانب سے سپریم کورٹ میں جمع کرائے گئے جواب میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ حیران کن طور پر بینچ کے سربراہ جسٹس عمر عطا بندیال نے کچھ سوالات پوچھے۔

جواب میں کہا گیا ہے کہ ان سوالات کی بنیاد بظاہر چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ معلوم ہوتی ہے۔ میں اور میری اہلیہ چیئرمین ایف بی آر کی رپورٹ کو بے وقعت سمجھتے ہیں۔

جسٹس قاضی فائز عیسیٰ نے اپنے تحریری جواب میں مزید کہا کہ عدالت کی جانب سے تینوں سوالات پوچھے ہی نہیں جانے چاہئیں تھے۔ اگر میں ان سوالات کا جواب دیتا ہوں تو یہ ایف بی آر رپورٹ کو تسلیم کرنے اور اپنے کیس کو خراب کرنے کے مترادف ہے۔

جسٹس فائز کے مطابق نظرثانی درخواستوں کی سماعت کے دوران ایف بی آر رپورٹ پر بات کرنا نامناسب ہے۔

اگر میں نے سوالات کے جوابات دیئے تو اس سے میرے خلاف ایک اور ریفرنس بن سکتا ہے۔

ان سوالات کے جوابات کے بعد سپریم جوڈیشل کونسل کو ایف بی آر رپورٹ کی روشنی میں میرے خلاف کارروائی کا اختیار مل جائے گا۔

جسٹس قاضی فائز  کا کہنا تھا کہ “میں حلفاً کہتا ہوں کہ میں نے جسٹس عمر عطا بندیال سے ملاقات کر کے کبھی اپنے کیس پر بات نہیں کی۔

انہوں نے کہا کہ  میں نے چیف جسٹس سے درخواست کی کہ میرا مقدمہ سننے والے کسی جج کو میرے ساتھ نہ بٹھایا جائے۔

جسٹس فائز عیسیٰ نے کہا کہ جسٹس عمر عطا بندیال نے مجھے اپنے فارم ہاؤس کا شہد بطور تحفہ بھجوایا، میں نے شہد کی بوتل شکریہ کے ساتھ واپس کر دی۔