صفحۂ اول / پاکستان / حملہ آور پہلے سے پارک میں موجود تھا اور ان کے آنے تک ایک کونے میں کھڑا تھا: ابصار عالم

حملہ آور پہلے سے پارک میں موجود تھا اور ان کے آنے تک ایک کونے میں کھڑا تھا: ابصار عالم

ویب ڈیسک: گزشتہ روز سینیئر صحافی اور پیمرا کے سابق چیئرمین ابصار عالم قاتلانہ حملے میں زخمی ہو گئے۔ پولیس نے تفتیش کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے۔

نجی ہسپتال میں عیادت کے لیے آنے والوں کو ابصار عالم نے بتایا کہ وہ شام چھ بجے کے لگ بھگ گھر کے سامنے پارک میں واک کر رہے تھے جب ایک شخص نے دو بار ان کو واک کے دوران کراس کیا۔

ابصار عالم کے مطابق حملہ آور پہلے سے پارک میں موجود تھا اور ان کے آنے تک ایک کونے میں کھڑا تھا۔ “وہ میرے مخالف سمت سے اینٹی کلاک وائز واک کر رہا تھا”۔

ابصار عالم نے بتایا کہ ان کو لگا کہ یہ شخص ان کی جاسوسی کر رہا ہے۔ “یہ معمول ہوتا ہے کہ آپ کی نگرانی یا ریکی کی جاتی ہے اس لیے دو بار جب وہ قریب سے گزرا تو نظرانداز کیا”۔

ابصار عالم کا کہنا تھا کہ حملہ آور پارک کے ٹریک پر پورا چکر نہیں کاٹ رہا تھا اور تیسری بار قریب سے گزرنے پر تین فٹ کے فاصلے سے پہلو میں گولی چلائی۔

اس سے قبل ہسپتال لے جاتے ہوئے ابصار عالم کی ایک ویڈیو سامنے آئی تھی جس میں وہ کہہ رہے ہیں کہ گھر کے سامنے واک کر رہا تھا جب قاتلانہ حملہ کیا گیا۔ان کا کہنا تھا کہ  وہ ڈرنے والے نہیں۔ اور اصولوں پر کھڑے ہیں۔

وزیر داخلہ شیخ رشید نے ابصار عالم پر فائرنگ کا نوٹس لیتے ہوئے اسلام آباد پولیس کے سربراہ کو تحقیقات کا حکم دیا ہے۔وزیر داخلہ کا کہنا تھا کہ “فائرنگ میں ملوث شخص کو جلد از جلد گرفتار کرنے کی ہدایت کی ہے”۔

شیخ رشید  نے کہا کہ ابصار عالم پر فائرنگ کرنے والے قانون سے نہیں بچ سکیں گے، بہت جلد قانون کی گرفت میں ہوں گے۔

سابق وزیراعظم نواز شریف نے ابصار عالم پر حملے کی مذمت کی ہے۔