صفحۂ اول / اردو کہانیاں / jin wali kahani – جن والی کہانی
Jin wali kahani

jin wali kahani – جن والی کہانی

jin wali kahani سچی کہانی ایک رات کی

یہ آج سے آٹھ سال پہلے کا واقعہ ہے جو میرے ساتھ پیش آیا۔ ہم تین بہن اور تین بھائی ہیں بڑی بہن شادی شدہ ہیں اور میری والدہ فالج زدہ تھی ( اب امی ابو حیات نہیں ) اس وقت دونوں حیات تھے میں رات میں ابو امی کے سب کام سے فارغ ہوکر اکثر باجی کے گھر چلی جاتی تھی۔

یہ بھی پڑھیں: پتہ نہیں لڑکیوں کی حسین زندگی غیر مردوں سے ہی کیوں جڑی ہوتی ہے؟

ان کے بچوں کے ساتھ تھوڑا وقت گزار کر واپس آجاتی کیوں کہ ہم ایک ہی اپارٹمنٹ میں رہتے تو کوئی مسئلہ نہیں ہوتا اگر رات کو دیر بھی ہوجاتی تو باجی کی دوست مجھے گھر چھوڑ کر جاتی قصّہ مختصر باجی کی دوست بھی انکے گھر آئی ہوئی تھی۔

بات روح اور جن کی ہونے لگی سب کہانی قصے سنا کر فارغ ہوئے رات بارہ یا ایک بجے کا ٹائم تھا میں باجی کی دوست کے ساتھ واپس گھر کے لئے نکلی۔ فلیٹ کمپاؤنڈ ٹائپ اچھا خاصا دور بلاک تھا میرے گھر کا۔ ہم بات کرتے جارہے تھے میں خود کو بہت بہادر سمجھ کے جوش میں بولتی ہوئی جارہی تھی کے میں کسی جن بھوت یا روح سے نہیں ڈرتی کوئی کچھ نہیں کر سکتا ۔۔۔۔۔۔Jin wali kahani

بس یہی میری سسب سے بڑی غلطی ثابت ہوئی !!!! سب بھول گئے اس بات سے بے خبر کے آنے والی صبح میرے لئے کیا لے کر آئے گی اپنے گھر آگئی رات کو بے چین رہی نیند بہت مشکل سے آئی۔

یہاں یہ بتاتی چلوں کے یہ سردیوں کے دن تھے، ہم 5روم کے فلیٹ میں رہتے تھے بھائی اک ہی تھا جو رات کو دیر سے گھر آتا تھا کام کی وجہ سے تو میں امی ابو کے ساتھ ان کے ہی روم میں سوتی تھی امی بیڈ پے سوتی میں امی کے ساتھ نیچے زمین پے۔

jin wali kahani

صبح ابو کے جانے کے بعد مجھے کچھ عجیب سا محسوس ہوا نیند میں ہونے کی وجہ سے زیادہ دھیان نہیں دیا تقریباً 8 بجے مجھے فیل ہوا کے کوئی میرا لحاف گھسیٹ رہا ہے میں نے دو بارہ اپنے اوپر لے لیا پھر لحاف گھسیٹ لیا گیا اب کی بار میں نے نیند میں کس کر اپنے لحاف کیا تو تھوڑی نیند سے باہر آئی کیوں کے یہ سب خواب سمجھ رہی تھی!!!!!!

ہوش میں تب آئی جب میری ٹانگیں کسی نے پکڑ کے ہوا میں کردی اور مجھے کمرے سے باہرلے جانے کے لئے گھسیٹنے کے لئے طاقت لگائی مارے خوف کے مجھ سے چیخ نہیں نکل رہی عجیب سی آواز نکلنے لگی آواز سن کے امی اٹھ گئی امی نے بھائی کو آواز دی میری ٹانگیں ہوا میں ہی تھی بھائی کے روم میں آنے کے بعد میں نارمل ہوگئی اور ڈر کے رونا شروع کردیا۔

یہاں یہ بات بتا دوں کے میرا شمار ان لوگوں میں ہوتا ہے جن کو الله کی مخلوق نظر آتی ہے،  جب میں نارمل ہوئی بہن بھائی نے پوچھا کے کیا ہوا تھا تو میں نے ان کو بتایا کے اک لڑکا تھا جسکا منہ خون میں لت پت اک ٹانگ ٹوٹی ہوئی آدھا چہرہ مسخ شدہ مجھے باہر لے جارہا تھا۔

پھر اک عورت جو اتارا یا دم کرتی اس کے پاس گئے اس نے بتایا کے جب میں رات میں بولتی ہوئی واپس آرہی تھی تو یہ بدروح اس کے ساتھ (یعنی میرے ساتھ )ساتھ آگئ اور مجھے تنگ کیا۔

مزید کہانیاں

تحریر بشکریہ نازش حمید

یہ خبربھی پڑھیں

stories in urdu written – آسیبی گھرایسی کہانی جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردے گی

stories in urdu written آسیبی گھر ہم لوگ ان دنوں بہت پریشان تھے۔ بات یہ …