صفحۂ اول / اردو کہانیاں / stories in urdu written – آسیبی گھرایسی کہانی جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردے گی

stories in urdu written – آسیبی گھرایسی کہانی جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردے گی

stories in urdu written آسیبی گھر

ہم لوگ ان دنوں بہت پریشان تھے۔ بات یہ تھی کہ مالک مکان نے ہمیں گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دیا تھا۔ میرے والد سرکاری ملازم تھے۔ تنخواہ بس اتنی تھی کہ گزر اوقات ہو جاتی تھی۔ میں ابھی زیرِ تعلیم تھا۔ مجھ سے دو چھوٹی بہنیں تھی وہ بھی اسکول میں پڑھ رہی تھیں۔ لہٰذاآمدنی کا کوئی دوسرا وسیلہ نہیں تھا۔

ایسے میں اپنا گھر بنانا تو دور کی بات تھی کوئی معقول گھر کرائے پر بھی نہیں لے سکتے تھے۔ موجودہ گھر ہمارے پاس گزشتہ پندرہ برس سے تھا۔ مالک مکان وقفے وقفے سے کرایا بڑھاتا رہا تھا مگر اسے بھی اندازہ تھا کہ ابا کی تنخواہ کتنی ہے۔ پھر ہمارے آپس میں تعلقات بھی تھے۔ اس بناء پر بھی مالک مکان لحاظ کرتا تھا مگر کب تک۔

Horror Stories in Urdu 2020

آخر اسے یہی ترکیب سوجھی کہ مکان خالی کروا کر اس میں کچھ ردو بدل کر کے نئے کرائے داروں کو زیادہ کرائے پر دے دے۔  دوسرا فائدہ اسے یہ تھا کہ ایڈوانس کی معقول رقم مل جاتی۔ ہم سے تو اس نے کوئی رقم نہیں لی تھی۔ ابا کو بھی احساس ہو گیا تھا کہ مالک مکان کیا چاہتا ہے۔

ابا اس پوزیشن میں نہیں تھے کہ منہ مانگا کرایہ ادا کر سکتے۔ سو انہوں نے بھی اس میں عافیت جانی کہ کوئی اور مکان تلاش کر لیں۔جس مکان میں ہم رہ رہے تھے وہ پرانی طرز کا تھا۔ نقشہ بھی عام سا تھا۔ امی کو ہمیشہ یہی خواہش رہی کہ کسی خوبصورت سے گھر میں رہیں۔ مگر یہ ایسی خواہش تھی جس کا پورا ہونا ناممکن نظر آتا تھا۔

اب جو نئے مکان کی تلاش شروع ہوئی تو امی کی خواہش نے پھر سر اٹھایا۔ مجھے بڑا دکھ ہوتا تھا کہ میری امی صبح سے شام تک ہم لوگوں کی خدمت کرتی رہتی ہیں۔ کبھی اچھا پہنا، نہ اچھا کھایا۔ چھوٹی چھوٹی ناآسودہ خواہشوں کے جال میں جکڑی رہیں۔ وہ اس پرانی طرز کے گھر کو بھی سجاتی سنوارتی رہتی تھیں۔

آنگن کچا تھا مگر اماں نے پانی چھڑک چھڑک کر سیمنٹ جیسا بنا دیا تھا۔ دیواروں کے ساتھ ساتھ گلاب موتیا کے پودے اور دیوار پر چنبیلی چڑھی ہوئی تھی۔ برآمدے میں گملوں پر کیرو پھیرو کر اس میں سدا بہار پودے لگا کر اس کو سجایا ہوا تھا۔

  you can find here best stories in urdu written

ان کی بڑی خواہش تھی کہ اللہ میاں کبھی ان کے دن بھی پھیر دے اور انہیں بھی ایک خوبصورت گھر مل جائے۔ یہ ایسی خواہش تھی جو اکثر ان کی زبان پر آ جاتی تھیں۔ ابا ان کی اس خواہش پر چڑ جاتے اور اکثر ہی دونوں میں تلخ کلامی ہو جاتی۔

اب مالک مکان نے جب مکان خالی کروانے کا تہیہ کر ہی لیا تو ناچار ابو کو نیا گھر ڈھونڈنا پڑا۔ ابا چاہتے تھے کہ گھر ایسی جگہ ہو جہاں سے میرا کالج اور بہنوں کا سکول نزدیک پڑے۔ بس اسٹاپ بھی دور نہ ہو اور مارکیٹ بھی قریب ہو۔ آبادی بھی اچھی ہو۔یہ تمام خوبیاں کرائے کے مکان میں نہیں ہو سکتی تھیں۔

میں ابا کے ساتھ صبح شام گھر دیکھنے جاتا تھا۔ جب کبھی میں نکلنے لگتا امی آہستہ سے کہتیں۔”گھر اچھا بنا ہوا ہو۔” میں اثبات میں سر ہلاتا اوردل میں ٹھان لیتا کہ جلد سے جلد پڑھ لکھ کر جو کام کروں گا وہ یہ ہو گا کہ ایک اچھا سا گھر بناؤں۔ ایسا گھر جو امی کی امنگوں پر پورا اترے۔ ابا تو یہ کام زندگی بھر نہیں کر سکیں گے۔

بد نصیبی سے ہم جہاں کہیں بھی گھر دیکھنے گئے، اگر گھر ابا کی خواہشوں کے مطابق ہو تو کرایا اتنا زیادہ ہوتا تھا کہ ابا افورڈ نہیں کر سکتے تھے۔ اگر کرایا کم ہوتا تو مرغی کے ڈربے جیسا فلیٹ یا مکان ملتا۔ ایسا خراب کہ جس میں رہنے کا تصور نہ کیا جا سکے۔

جس دوران ہم گھر ڈھونڈ رہے تھے ابا کی ملاقات ایک شخص سے ہو گئی جو ایک اسٹیٹ ایجنسی کا مالک تھا۔ اس نے بتایا کہ اس کے پاس کئی مناسب گھر مناسب کرائے پر موجود ہیں۔ ایک گھر کی تو اس نے اتنی تعریف کی کہ وہ بہت خوبصورت اور بالکل نیا مکان ہے۔

جن لوگوں نے وہ گھر بنوایا تھا وہ امریکا چلے گئے ہیں اور ہدایت کر گئے ہیں۔”بے شک، کرایا زیادہ نہ لینا مگر ایسے لوگوں کو دینا جو گھر رکھنا جانتے ہوں۔ وہ تو چوکیدار رکھ کر جا رہے تھے۔ مگر میں نے مشورہ دیا کہ چوکیدار بھی گھر کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔

آج کل چوکیدار چارپائیاں توڑتے رہتے ہیں اور گھر غفلت کی نذر ہو جاتا ہے۔ بچے شیشے توڑ دیتے ہیں۔ دیواروں سے کود کر پھول پودے اجاڑ دیتے ہیں۔” اس نے مزید بتایا کہ گھر بہت اچھا ہے بس آبادی سے ذرا سا دور ہے۔ تھوڑا سا پیدل چلنے کے بعد اسٹاپ موجود ہے اور بازار وغیرہ بھی ہے۔

ابا کا خیال تھا کہ جیسا گھر وہ بتا رہا ہے ۔اس کا کرایہ بہت زیادہ ہو گا۔ پھر آبادی سے دور ہو گا تو میری بہنوں اور مجھے سکول جانے میں دقت ہو گی۔ ابا تو اپنی بیس سال پرانی بائیک پر آفس چلے جاتے تھے۔

ابا نے انکار کرنا چاہا تو وہ شخص سرہو گیا کہ آپ آئیں تو سہی ایک نظر گھر دیکھ لیں پھر کرایا پوچھئے گا۔ اگر آپکی مرضی کے مطابق نہ ہوا تو بے شک نہ لیں۔ کوئی زبردستی نہیں ہے۔

آخر کچھ روز بعد ہر جگہ سے مایوس ہو کر میں اور ابا اس علاقے میں پہنچ گئے جہاں وہ گھر موجود تھا۔ اس علاقے سے کچھ دور اس شخص کی اسٹیٹ ایجنسی تھی۔ جب ہم وہاں پہنچے تو یہ دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ وہ کوئی چھوٹا موٹا گھر نہیں تھا بلکہ بہت خوبصورت بنگلا تھا۔

stories in urdu writtenstories in urdu written

باہر یہاں سے وہاں تک لان تھا۔ پھول پودے تھے مگر دیکھ بھال نہ ہونے کی وجہ سے گھاس لمبی ہو گئی تھی اور پودے تقریباً سوکھ رہے تھے مگر گھر بہت شاندار تھا۔ تین بیڈ رومز، ڈرائنگ روم، امریکن کچن، ٹائلز لگے باتھ رومز، ان میں خوبصورت ٹب اور جدید طرز کے نلکے اور شاور لگے ہوئے تھے۔

یہ تم ہمیں کہاں لے آئے بھائی۔؟ابا سٹپٹا کر بولے۔ ہم اس قابل نہیں ہیں کہ اس بنگلے کا کرایہ ادا کر سکیں۔ ہمیں تو کوئی چھوٹا موٹا گھر چاہئے۔ یہ محل ہم کیا کریں گے۔

صاحب! آپ کو بتایا ناں کہ مالک مکان اس کے کرائے کی فکر میں نہیں ہیں۔ وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ اس گھر کی دیکھ بھال ہوتی رہے۔ ورنہ انہیں تو الٹا چوکیدار کو پیسے دے کر رکھنا پڑتا۔ آپ جتنا کرایہ اس گھر کا دے رہے ہیں جہاں آپ رہتے ہیں، اتنا ہی دے دیجئے گا۔ میں مطمئن ہو جاؤں گا کہ میں نے گھر کسی شریف آدمی کے حوالے کیا ہے۔

کیا مطلب ؟ میں تو اس مکان کے صرف پندرہ سو دیتا ہوں۔” ابا نے چبھتی ہوئی نگاہوں سے اسے دیکھا۔

” پندرہ سو؟”۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ وہ آدمی ذرا چپ ہو گیا۔ ” اچھا۔ یہ بتایے کہ آپ لوگ گھر کی دیکھ بھال تو صحیح رکھیں گے ناں؟ بعض لوگ گھر کا ستیا ناس کر دیتے ہیں۔ در اصل مجھے میرے دوست نے بتایا تھا کہ آپ کی وائف نے گھر بہت اچھا رکھا ہوا ہے۔

اس شخص نے ابا کے ایسے دوست کا حوالہ دیا جو اتفاق سے اس کا بھی جاننے والا تھا اور اسی نے اس شخص کی ملاقات کروائی تھی،  ٹھیک ہے ابا! گھر اچھا ہے۔ امی تو کتنا خیال رکھتی ہیں گھر کا۔ میں نے فوراً حامی بھر لی۔

شام کو امی کو لے آئیں گے وہ گھر دیکھ کر خوش ہو جائیں گی۔ میں بائیک پر فرح اور صبا کو اسٹاپ تک چھوڑ دیا کروں گا۔ میرے لئے تو اسٹاپ زیادہ دور نہیں ہے۔ اور کیا۔۔۔۔ جوان بچے ہو۔” اس شخص نے فوراً کہا۔

ابا سوچ میں پڑ گئے۔ اس کے سوا چارہ بھی نہیں تھا اور کوئی دوسرا گھر بھی دستیاب نہیں تھا۔ تھا تو کرایا بہت تھا۔ ٹھیک ہے  میں کل آ کر بتاؤں گا۔” ابا نے جواب دیا۔

People will surely get addicted to this page once they visit it. LatestUpdate offers you a platform wherever you’ll scan stories in urdu written.

میں راستے بھر ابا کو قائل کرتا رہا کہ ابا گھر بہت اچھا ہے آس پاس اور بھی گھر بن رہے ہیں۔ پھر مالک مکان طویل عرصے کے لئے باہر گئے ہیں۔ فی الحال چار پانچ برس تک ان کے آنے کی امید نہیں ہے۔ اس عرصے میں میں نوکر ہو جاؤں گا۔ تو ہم اپنا گھر لے لیں گے۔

دراصل میں چاہتا تھا کہ امی خوش ہو جائیں۔ گھر پہنچ کر سب سے پہلے امی کو خوشخبری سنائی۔ امی تو ایک دم پر جوش ہو گئیں اندھیرا نہ ہو جاتا تو میں ابھی چلی جاتی۔ وہ خوش ہو کر بولیں۔ابا کسی کام سے باہر گئے تو میں نے دل کھول کر اس گھر کی تعریفیں کیں اور ایک ایک چیز کی تفصیل بتائی۔ امی ساری تفصیل سن کر بہت خوش ہوئیں۔ کہنے لگیں۔

میں نے کچھ پیسے جوڑ رکھے ہیں اور ایک کمیٹی بھی ڈالی ہے۔ ہے تو لمبی مگر جلدی مل جائے گی۔ ہم ان پیسوں سے ڈرائنگ روم کے لئے سامان خرید لیں گے۔امی بڑی دیر تک خواب بنتی رہیں اور میں بھی خوش ہوتا رہا۔ چھوٹی بہنیں بھی خوش ہو رہی تھیں۔

stories in urdu writtenstories in urdu written

اگلے روز امی، دونوں بہنیں اور میں ایک ٹیکسی میں ابو کے ساتھ روانہ ہوئے۔ ابو نے رات کو بھی کئی بار یہ بات کی کہ گھر آبادی سے کافی دور ہے اور راستے میں بھی یہی کہتے رہے۔ میں حیران تھا کہ ابا کو دوسرا گھر مل نہیں رہا ہے پھر بھی اس گھر میں برائیاں ڈھونڈ رہے ہیں۔

بہر حال ہم سب جب وہاں پہنچے توامی کی توبانچھیں کھل گئیں۔ بہنیں بھی بہت خوش ہوئیں۔ ایک بہن بولی  ہائے یہاں پڑھنے میں کتنا مزہ آئے گا۔ دوسری بولی شام کو بیڈ منٹن بھی کھیلیں گے۔

امی تو بار بار اندر باہر کا چکر لگا رہی تھیں۔ انہیں یقین نہیں آ رہا تھا کہ اتنا خوبصورت گھر ان کو مل جائے گا۔ وہ بولیں۔ایسا گھر تو جنگل میں بھی ہو تو میں بخوشی رہ سکتی ہوں۔پھر ان کی نگاہ ساتھ والے پلاٹ پر پڑی ۔ وہاں بھی ایک نامکمل گھر موجود تھا۔

یہ بھی بن رہا ہے شاید۔۔۔۔۔۔۔۔ خدا کرے اچھے پڑوسی ہوں۔ہم بڑی دیر تک وہاں رہے ابا نے جب سب کو راضی بہ رضا دیکھا توواپسی پر اسٹیٹ ایجنسی والے سے بات طے کر کے آ گئے۔

stories in urdu writtenجاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔

مزید پڑھیے

Most of the people in Pakistan want to read stories in urdu written, and they always google the topic they like, but don’t worry about that.
This page is best place for those who want to read stories in urdu written, you can find here the best horror stories in urdu, urdu kahanian, bachun ki kahanian, so visit the page and enjoy the best stories in urdu written.

You will be able to see abundance of True Stories / urdu stories in Urdu announce here that you simply will click and browse. The true stories may be life dynamical and may influence the readers deeply. You can scan and advocate urdu stories in Urdu from this page to kill dissatisfaction.

یہ خبربھی پڑھیں

Jin wali kahani

jin wali kahani – جن والی کہانی

jin wali kahani سچی کہانی ایک رات کی یہ آج سے آٹھ سال پہلے کا …