صفحۂ اول / اردو کہانیاں / عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو
urdu stories new

عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو

urdu stories newurdu stories new

کیاآپ کو معلوم ہے عورت کےلیے ایک شادی کاحکم کیوں دیا گیا ہے؟ اگر آپ کاجواب نہیں ہے تو چلیے  جانتےہیں۔

ایک ماہرِ جنین یہودی(جو دینی عالم بھی تھا) کھلے طور پر کہتا ہے کہ روئے زمین پر مسلم خاتون سے زیادہ پاک باز اور صاف ستھری کسی بھی مذھب کی خاتون نہیں ہے، پورا واقعہ یوں ہے کہ البرٹ آئینسٹاین انسٹی ٹیوٹ سے منسلک ایک ماہرِ جنین یہودی پیشوا رابرٹ نے اپنے قبول اسلام کا اعلان کیا جس کا واحد سبب بنا قرآن میں مذکور مطلقہ کی عدت کے حکم سے واقفیت اور عدت کیلئے تین مہینے کی تحدید کے پیچھے کار فرما حکمت سے شناسائی قرآن میں فرمایا گیا ہے کہ  “طلقات اپنے آپکو تین حیض تک روکے رکھیں”۔

اس آیت نے ایک حیرت انگیز جدید علم ڈی این اے کے انکشاف کی راہ ہموار کی اور یہ پتا چلا کہ مرد کی منی میں پروٹین دوسرے مرد کے بالمقابل 62 فیصد مختلف ہوا کرتی ہے اور عورت کا جسم ایک کمپیوٹر کی مانند ہے جب کوئی مرد ہم بستری کرتا ہے تو عورت کا جسم مرد کے تمام بیکٹریاز جذب و محفوظ کر لیتا ہے۔اس لئے طلاق کے فوراً بعد اگر عورت کسی دوسرے مرد سے شادی کرلے یا پھر بیک وقت کئی لوگوں سے جسمانی تعلقات استوار کرلے تو اس کے بدن میں کئی ڈی این اے جمع ہو جاتے ہیں جو خطرناک وائرس کی شکل اختیار کرلیتے ہیں اور جسم کے اندر جان لیوا امراض پیدا ہونے کا سبب بنتے ہیں۔

urdu news updateurdu stories new

سائنس نے تحقیق کی کہ طلاق کے بعد ایک حیض گزرنے سے 32سے35 فیصد تک پروٹین ختم ہو جاتی ہے اور دوسرا حیض آنے سے 67 سے 72 تک آدمی کا ڈی این اے زائل ہو جاتا ہے اور تیسرے حیض میں 99.9فیصد کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور پھر رحم سابقہ ڈی این اے سے پاک ہو جاتا ہے اور بغیر کسی سائڈ افیکٹ و نقصان کے نیا ڈی این اے قبول کرنے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔

ایک طوائف کئی لوگوں سے تعلقات بناتی ہے جس کے سبب اس کے رحم میں مختلف مردوں کے بیکٹریاز چلے جاتے ہیں اور جسم میں مختلف ڈی این اے جمع ہو جاتےہٰیں اور اسکے نتیجے میں وہ مہلک امراض کا شکار بن جاتی ہے،  اور رہی بات متوفی عنہا کی عدت تو اس کی عدت طلاق شدہ عورت سے زیادہ ہے کیونکہ غم و حزن کی بناء پر سابقہ ڈی این اے جلدی ختم نہیں ہوتا اور اسے ختم ہونے کے لئے پہلے سے زیادہ وقت درکار ہے اور اسی کی رعایت کرتے ہوئے۔  ایسی عورتوں کے لئے چار مہینے اور دس دن کی عدت رکھی گئی ہے۔

اس حقیقت سے راہ پاکر ایک ماہر ڈاکٹر نے امریکہ کے دو مختلف محلوں میں تحقیق کی ایک محلہ جہاں افریقن نژاد مسلم رہتے تھے وہاں کی تمام عورتوں کے جنین میں صرف ایک ہی شوہر کا ڈی این اے پایا گیا جبکہ دوسرا محلہ جہاں اصل امریکن آزاد عورتیں رہتی تھیں ان کے جنین میں ایک سے زائد دو تین لوگوں تک کے ڈی این اے پائے گئے۔

جب ڈاکٹر نے خود اپنی بیوی کا خون ٹیسٹ کیا تو چونکا دینے والی حقیقت سامنے آئی کہ اس کی بیوی میں تین الگ الگ لوگوں کے ڈی ان اے پائے گئے۔جس کا مطلب یہ تھا کہ اس کی بیوی اسے دھوکہ دے رہی تھی اور یہ کہ اس کے تین بچوں میں سے صرف ایک اس کا اپنا بچہ ہے۔  اس کے بعد ڈاکٹر پوری طرح قائل ہوگیا کہ صرف اسلام ہی وہ دین ہے جو عورتوں کی حفاظت اور سماج کی ہم آہنگی کی ضمانت دیتا ہے اور اس بات کی بھی کہ مسلم عورتیں دنیا کی سب سے صاف ستھری پاک دامن وپاک باز ہوتی ہیں۔

مزید کہانیاں پڑھیں

urdu stories new

یہ خبربھی پڑھیں

stories in urdu written – آسیبی گھرایسی کہانی جو آپ کے رونگٹے کھڑے کردے گی

stories in urdu written آسیبی گھر ہم لوگ ان دنوں بہت پریشان تھے۔ بات یہ …